ایمان کی آواز میں
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26
«دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیااپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا
ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلازنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا