دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا
کلام: حبیب جالب
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیااپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا
ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلازنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)
مہمان شاعر: حبیب جالب
دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیااپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا
ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلازنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا
دنیاں بھر دے کالے چٹے چور لٹیرےسوچیں پے گئے کی ہویا رات جے مکّ گئی
جے دھرتی دے کامیاں اگے گردن جھکّ گئیکی ہووےگا ؟
مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیںہم محو تماشائے سر راہ گزر ہیں
حسرت سی برستی ہے در و بام پہ ہر سوروتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں
ایک پوُرا جہان تھی پہلےیہ زمین آسمان تھی پہلے
راکھ ہو کر یقین آیا ہےآگ وہم و گمان تھی پہلے