7 اشعار

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا

Dil par jo zakhm hain woh dikhaen kisi ko kya

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا

«دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیااپنا شریک درد بنائیں کسی کو کیا

ہر شخص اپنے اپنے غموں میں ہے مبتلازنداں میں اپنے ساتھ رلائیں کسی کو کیا

بچھڑے ہوئے وہ یار وہ چھوڑے ہوئے دیاررہ رہ کے ہم کو یاد جو آئیں کسی کو کیا

رونے کو اپنے حال پہ تنہائی ہے بہتاس انجمن میں خود پہ ہنسائیں کسی کو کیا

وہ بات چھیڑ جس میں جھلکتا ہو سب کا غمیادیں کسی کی تجھ کو ستائیں کسی کو کیا

سوئے ہوئے ہیں لوگ تو ہوں گے سکون سےہم جاگنے کا روگ لگائیں کسی کو کیا

جالبؔ نہ آئے گا کوئی احوال پوچھنےدیں شہر بے حساں میں صدائیں کسی کو کیا

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں