ایمان کی آواز میں
خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں
کلام: راکب مختار · محفل: دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین · 2026-02-04
«خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیں» راکب مختار کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دے لے ساقی ہم کو مے یہ ابر باراں پھر کہاںانعام اللہ یقین» میں 4 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 56 سیکنڈ ہے۔
خاکی پیکر ہے مگر خاک نشینوں سے نہیںشہر سے جائے گا عشاق کے سینوں سے نہیں
تو نے لڑتے ہوئے گالی کا سہارا لیا تھاصلح انسان سے کرتا ہوں کمینوں سے نہیں