ایمان کی آواز میں
کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا
کلام: امجد اسلام امجد · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25
«کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوا» امجد اسلام امجد کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔
کوئی خواب دشتِ فراق میں سر ِشام چہرہ کشا ہوامری چشم تر میں رکا نہیں کہ تھا رتجگوں کا ڈسا ہوا
مرے دل کو رکھتا ہے شادماں، مرے ہونٹ رکھتا ہے گل فشاںوہی ایک لفظ جو آپ نے، مرے کان میں ہے کہا ہوا