ایمان کی آواز میں
مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں
کلام: حبیب جالب · محفل: دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب) · 2025-11-26
«مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔
مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیںہم محو تماشائے سر راہ گزر ہیں
حسرت سی برستی ہے در و بام پہ ہر سوروتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں