7 اشعار

مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں

Mahtab sifat log yahan khaak basar hain

مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں

«مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیں» حبیب جالب کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل پر جو زخم ہیں وہ دکھائیں کسی کو کیا (حبیب جالب)» میں 26 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

مہتاب صفت لوگ یہاں خاک بسر ہیںہم محو تماشائے سر راہ گزر ہیں

حسرت سی برستی ہے در و بام پہ ہر سوروتی ہوئی گلیاں ہیں سسکتے ہوئے گھر ہیں

آئے تھے یہاں جن کے تصور کے سہارےوہ چاند وہ سورج وہ شب و روز کدھر ہیں

سوئے ہو گھنی زلف کے سائے میں ابھی تکاے راہرواں کیا یہی انداز سفر ہیں

وہ لوگ قدم جن کے لیے کاہکشاں نےوہ لوگ بھی اے ہم نفسو ہم سے بشر ہیں

بک جائیں جو ہر شخص کے ہاتھوں سر بازارہم یوسف کنعاں ہیں نہ ہم لعل و گہر ہیں

ہم لوگ ملیں گے تو محبت سے ملیں گےہم نزہت مہتاب ہیں ہم نور سحر ہیں

— حبیب جالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں