ایمان کی آواز میں
قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں
کلام: راجا اکرام قمر · محفل: جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ · 2025-12-24
«قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیں» راجا اکرام قمر کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب سے بچھڑا ہےتو بکھر گیا ہوں راجا اکرام صاحب کے ساتھ» میں 24 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔
قمر سحر کو جو تارے بھی چھپنے لگتے ہیںتب ان کے وعدے بھی ہم کو بہانے لگتے ہیں
نہ اختیار میں رہتا ہے دل عجیب مرایہ مان جاتا ہے، جب وہ بہلنے لگتے ہیں