ایمان کی آواز میں
شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا
کلام: شیخ ابراہیم ذوق · محفل: مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق · 2026-01-15
«شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔
شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کاہے مرا مرغ نظر پروانہ شمع طور کا
اے صنم کیا پوچھتا ہے حال اس رنجور کادل نہ اٹکائے کہیں اللہ بے مقدور کا