6 اشعار

شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا

Shauq-e-nazzara hai jab se is rukh-e-pur-noor ka

شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا

«شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کا» شیخ ابراہیم ذوق کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق» میں 15 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کاہے مرا مرغ نظر پروانہ شمع طور کا

اے صنم کیا پوچھتا ہے حال اس رنجور کادل نہ اٹکائے کہیں اللہ بے مقدور کا

لطف جاتا ہے سرود نالۂ پر شور کاخون دل پینا ہے یہ کھانا مجھے سیندور کا

وادیٔ ظلمت میں اپنی دخل کب ہے نور کامہر اک شعلہ سا ہے سو بھی چراغ دور کا

تیرے قامت سے جو ہو برپا قیامت سر و پرکام لے منقار سے فریاد قمری صور کا

ذوقؔ راہ عشق وہ کوچہ ہے جس کی خاک میںہے در تاج سلیماں بیضہ بیضہ مور کا

— شیخ ابراہیم ذوق

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں