نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتا
کلام: شیخ ابراہیم ذوق
نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتاکہ نیچے آسماں کے اور پیدا آسماں ہوتا
کہے ہے مرغ دل اے کاش میں زاغ کماں ہوتاکہ تا شاخ کماں پر اس کی میرا آشیاں ہوتا
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے ابراہیم ذوق
مہمان شاعر: شیخ ابراہیم ذوق
نہ کرتا ضبط میں نالہ تو پھر ایسا دھواں ہوتاکہ نیچے آسماں کے اور پیدا آسماں ہوتا
کہے ہے مرغ دل اے کاش میں زاغ کماں ہوتاکہ تا شاخ کماں پر اس کی میرا آشیاں ہوتا
باغ عالم میں جہاں نخل حنا لگتا ہےدل پر خوں کا وہاں ہاتھ پتا لگتا ہے
کیا تڑپنا دل بسمل کا بھلا لگتا ہےکہ جب اچھلے ہے ترے سینے سے جا لگتا ہے
شوق نظارہ ہے جب سے اس رخ پر نور کاہے مرا مرغ نظر پروانہ شمع طور کا
اے صنم کیا پوچھتا ہے حال اس رنجور کادل نہ اٹکائے کہیں اللہ بے مقدور کا