ایمان کی آواز میں
وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے
کلام: ادا جعفری · محفل: ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری) · 2025-12-12
«وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔
وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا ، وہی جادہ ہےکوئی سنگِ رہ کو خبر کرو ، اُسی آستاں کا ارادہ ہے
وہی اشکِ خوں کے گلاب ہیں ، وہی خار خار ہے پیرہننہ کرم کی آس بجھی ابھی ، نہ ستم کی دُھوپ زیادہ ہے