7 اشعار

وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے

Wohi nasaburi-e-arzoo, wohi naqsh-e-pa, wohi jaada hai

وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے

«وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا، وہی جادہ ہے» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

وہی ناصبوریِ آرزو ، وہی نقشِ پا ، وہی جادہ ہےکوئی سنگِ رہ کو خبر کرو ، اُسی آستاں کا ارادہ ہے

وہی اشکِ خوں کے گلاب ہیں ، وہی خار خار ہے پیرہننہ کرم کی آس بجھی ابھی ، نہ ستم کی دُھوپ زیادہ ہے

ابھی روشنی کی لکیر سی سرِ رہ گزار ہے جاں بلبکسی دل کی آس مٹی نہیں ، کہیں اک دریچہ کشادہ ہے

تنِ زخم زخم کو چھوڑ دے ، مرے چارہ گر ، مرے مہرباںدل داغ داغ کا حوصلہ تری مرحمت سے زیادہ ہے

جونظر بچا کے گزر گئے تو نہ آسکو گے پلٹ کے تمبڑی محترم ہے یہ بے بسی کہ خلوصِ جاں کا لبادہ ہے

یہی زندگی ہے بری بھلی ، یہ کشیدہ سر ، یہ برہنہ پانہ غبارِ راہ سے مضمحل ، نہ سکونِ جاں کا اعادہ ہے

مرا افتخارِ وفا تلک مجھے راس آ نہ سکا اداؔترا نام جس پہ لکھا رہا ، وہ کتاب آج بھی سادہ ہے

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں