15 اشعار

بہت سے لوگوں کو غم نے جلا کے مار دیا

Bahut se logon ko gham ne jala ke maar diya

بہت سے لوگوں کو غم نے جلا کے مار دیا

«بہت سے لوگوں کو غم نے جلا کے مار دیا» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

بہت سے لوگوں کو غم نے جلا کے مار دیاجو بچ رہے تھے انہیں مے پلا کے مار دیا

یہ کیا ادا ہے کہ جب ان کی برہمی سے ہمنہ مر سکے تو ہمیں مسکرا کے مار دیا

نہ جاتے آپ تو آغوش کیوں تہی ہوتیگئے تو آپ نے پہلو سے جا کے مار دیا

مجھے گلہ تو نہیں آپ کے تغافل سےمگر حضور نے ہمت بڑھا کے مار دیا

نہ آپ آس بندھاتے نہ یہ ستم ہوتاہمیں تو آپ نے امرت پلا کے مار دیا

کسی نے حسن تغافل سے جاں طلب کر لیکسی نے لطف کے دریا بہا کے مار دیا

جسے بھی میں نے زیادہ تپاک سے دیکھااسی حسین نے پتھر اٹھا کے مار دیا

وہ لوگ مانگیں گے اب زیست کس کے آنچل سے؟جنہیں حضور نے دامن چھڑا کے مار دیا

چلے تو خندہ مزاجی سے جا رہے تھے ہمکسی حسین نے رستے میں آ کے مار دیا

رہ حیات میں کچھ ایسے پیچ و خم تو نہ تھےکسی حسین نے رستے میں آ کے مار دیا

رم کی صورت اول تو جاں گداز نہ تھیکرم کا دوسرا پہلو دکھا کے مار دیا

عجیب رس بھرا رہزن تھا جس نے لوگوں کوطرح طرح کی ادائیں دکھا کے مار دیا

عجیب خلق سے اک اجنبی مسافر نےہمیں خلاف توقع بلا کے مار دیا

عدمؔ بڑے ادب آداب سے حسینوں نےہمیں ستم کا نشانہ بنا کے مار دیا

تعینات کی حد تک تو جی رہا تھا عدمؔتعینات کے پردے اٹھا کے مار دیا

— عبدالحمیدعدم