4 اشعار

ہم نے حسرتوں کے داغ آنسوؤں سے دھو لیے

Hum ne hasraton ke daagh aansuon se dho liye

ہم نے حسرتوں کے داغ آنسوؤں سے دھو لیے

«ہم نے حسرتوں کے داغ آنسوؤں سے دھو لیے» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 32 سیکنڈ ہے۔

ہم نے حسرتوں کے داغ آنسوؤں سے دھو لیےآپ کی خوشی حضور بولئے نہ بولئے

کیا حسین خار تھے جو مری نگاہ نےسادگی سے بارہا روح میں چبھو لیے

موسم بہار ہے عنبریں خمار ہےکس کا انتظار ہے گیسوؤں کو کھولیے

زندگی کا راستہ کاٹنا تو تھا عدمؔجاگ اٹھ تو چل دیئے تھک گئے تو سو لیے

— عبدالحمیدعدم