4 اشعار

ایک حکایت تھرا اٹھی ایک فسانہ جاگ اٹھا

Ek hikāyat tharrā uThī ek fasāna jāg uThā

ایک حکایت تھرا اٹھی ایک فسانہ جاگ اٹھا

«ایک حکایت تھرا اٹھی ایک فسانہ جاگ اٹھا» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 41 سیکنڈ ہے۔

ایک حکایت تھرا اٹھی ایک فسانہ جاگ اٹھااس نے جدھر کو ہنس کر دیکھا حیرت خانہ جاگ اٹھا

میرے جنوں نے چپ سادھی تھی اس کی نظر پھر ہنسنے لگیاک دیوانہ سویا ہی تھا اک دیوانہ جاگ اٹھا

ایک گھٹا لہرا کے اٹھی اس صبر شکن کیفیت سےبے نیت سی نیت میں اک گرم بہانہ جاگ اٹھا

رات بہت بے وقت عدمؔ ہم جا نکلے مے خانے کوپھر بھی بھاری دستک سن کر اک پیمانہ جاگ اٹھا

— عبدالحمیدعدم