6 اشعار

کاش اتفاق سے کبھی لب تو ہلائے دوست

Kāsh ittifāq se kabhī lab to hilā'e dost

کاش اتفاق سے کبھی لب تو ہلائے دوست

«کاش اتفاق سے کبھی لب تو ہلائے دوست» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

کاش اتفاق سے کبھی لب تو ہلائے دوستدل بھی براے دوست ہے جاں بھی براے دوست

دل میں عجب سکون سا ہوتا ہے موجزنآتی ہے گاہ گاہ کہیں سے صدائے دوست

اب انتخاب ہو بھی تو کیا انتخاب ہودوزخ ادائے دوست ہے جنت رضائے دوست

یارو شباب موسم گل اور یہ بے حسیلاؤ ذرا سی گرمی رنگ قبائے دوست

ہم کہہ رہے ہیں روٹھا ہوا یار ہی ملےہم بے ادب نہیں کہ کہیں مسکرائے دوست

ساغر عدمؔ اٹھاؤں کہ پہلے وضو کریںیہ بھی رضائے دوست ہے وہ بھی رضائے دوست

— عبدالحمیدعدم