5 اشعار

فرصت کے سہانے لمحوں میں کیا کام کی باتیں ہوتی ہیں

Fursat ke suhāne lamhon mein kyā kām kī bāten hotī hain

فرصت کے سہانے لمحوں میں کیا کام کی باتیں ہوتی ہیں

«فرصت کے سہانے لمحوں میں کیا کام کی باتیں ہوتی ہیں» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

فرصت کے سہانے لمحوں میں کیا کام کی باتیں ہوتی ہیںکچھ یار کا قصہ ہوتا ہے کچھ جام کی باتیں ہوتی ہیں

اے دوست تبسم کی لہریں ہونٹوں پہ کہاں سے اب لاؤںحالات کے میلے ہوتے ہیں ایام کی باتیں ہوتی ہیں

ارباب خرد کی محفل میں دل اور پریشاں ہوتا ہےکچھ سوچ کے وقفے ہوتے ہیں کچھ کام کی باتیں ہوتی ہیں

آلام زمانہ فرصت دیں تو بیٹھ کے دل کا حال کہیںاس زلف مسلسل کی باتیں آرام کی باتیں ہوتی ہیں

جس وقت عدمؔ دل دنیا کے افکار سے خالی ہوتا ہےاس وقت جو باتیں ہوتی ہیں الہام کی باتیں ہوتی ہیں

— عبدالحمیدعدم