4 اشعار

خرد کی انتہا ہے اور میں ہوں

KHirad kī intihā hai aur main hoon

خرد کی انتہا ہے اور میں ہوں

«خرد کی انتہا ہے اور میں ہوں» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 30 سیکنڈ ہے۔

خرد کی انتہا ہے اور میں ہوںجنوں کی ابتدا ہے اور میں ہوں

عجب روٹھا ہوا ساتھی ملا ہےدل بے مدعا ہے اور میں ہوں

کوئی لغزش نہ ہو جائے اچانکترا بند قبا ہے اور میں ہوں

زمانہ درمیاں سے ہٹ گیا ہےجمال آشنا ہے اور میں ہوں

— عبدالحمیدعدم