7 اشعار

ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا

Hans hans ke jām jām ko chhalkā ke pī gayā

ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا

«ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیا» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

ہنس ہنس کے جام جام کو چھلکا کے پی گیاوہ خود پلا رہے تھے میں لہرا کے پی گیا

توبہ کے ٹوٹنے کا بھی کچھ کچھ ملال تھاتھم تھم کے سوچ سوچ کے شرما کے پی گیا

ساغر بدست بیٹھی رہی میری آرزوساقی شفق سے جام کو ٹکرا کے پی گیا

وہ دشمنوں کے طنز کو ٹھکرا کے پی گئےمیں دوستوں کے غیظ کو بھڑکا کے پی گیا

صدہا مطالبات کے بعد ایک جام تلخدنیائے جبر و صبر کو دھڑکا کے پی گیا

سو بار لغزشوں کی قسم کھا کے چھوڑ دیسو بار چھوڑنے کی قسم کھا کے پی گیا

پیتا کہاں تھا صبح ازل میں بھلا عدمؔساقی کے اعتبار پہ لہرا کے پی گیا

— عبدالحمیدعدم