12 اشعار

مسکرا کر خطاب کرتے ہو

Muskurā kar KHitāb karte ho

مسکرا کر خطاب کرتے ہو

«مسکرا کر خطاب کرتے ہو» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

مسکرا کر خطاب کرتے ہوعادتیں کیوں خراب کرتے ہو

مار دو مجھ کو رحم دل ہو کرکیا یہ کار ثواب کرتے ہو

مفلسی اور کس کو کہتے ہیں!دولتوں کا حساب کرتے ہو

صرف اک التجا ہے چھوٹی سیکیا اسے باریاب کرتے ہو

ہم تو تم کو پسند کر بیٹھےتم کسے انتخاب کرتے ہو

خار کی نوک کو لہو دے کرانتظار گلاب کرتے ہو

یہ نئی احتیاط دیکھی ہےآئنے سے حجاب کرتے ہو

کیا ضرورت ہے بحث کرنے کیکیوں کلیجہ کباب کرتے ہو

ہو چکا جو حساب ہونا تھااور اب کیا حساب کرتے ہو

ایک دن اے عدمؔ نہ پی تو کیاروز شغل شراب کرتے ہو

کتنے بے رحم ہو عدمؔ تم بھیذکر عہد شباب کرتے ہو

ہو کسی کی خوشی گر اس میں عدمؔجرم کا ارتکاب کرتے ہو

— عبدالحمیدعدم