8 اشعار

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

Kashtī chalā rahā hai magar kis adā ke sāth

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ

«کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھ» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

کشتی چلا رہا ہے مگر کس ادا کے ساتھہم بھی نہ ڈوب جائیں کہیں نا خدا کے ساتھ

دل کی طلب پڑی ہے تو آیا ہے یاد ابوہ تو چلا گیا تھا کسی دل ربا کے ساتھ

جب سے چلی ہے آدم و یزداں کی داستاںہر با وفا کا ربط ہے اک بے وفا کے ساتھ

مہمان میزباں ہی کو بہکا کے لے اڑاخوشبوئے گل بھی گھوم رہی ہے صبا کے ساتھ

پیر مغاں سے ہم کو کوئی بیر تو نہیںتھوڑا سا اختلاف ہے مرد خدا کے ساتھ

شیخ اور بہشت کتنے تعجب کی بات ہےیارب یہ ظلم خلد کی آب و ہوا کے ساتھ

پڑھتا نماز میں بھی ہوں پر اتفاق سےاٹھتا ہوں نصف رات کو دل کی صدا کے ساتھ

محشر کا خیر کچھ بھی نتیجہ ہو اے عدمؔکچھ گفتگو تو کھل کے کریں گے خدا کے ساتھ

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں