9 اشعار

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں

Woh jo tere faqīr hote hain

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں

«وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیں» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے قوس قزح نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

وہ جو تیرے فقیر ہوتے ہیںآدمی بے نظیر ہوتے ہیں

دیکھنے والا اک نہیں ملتاآنکھ والے کثیر ہوتے ہیں

جن کو دولت حقیر لگتی ہےاف! وہ کتنے امیر ہوتے ہیں

جن کو قدرت نے حسن بخشا ہوقدرتاً کچھ شریر ہوتے ہیں

زندگی کے حسین ترکش میںکتنے بے رحم تیر ہوتے ہیں

وہ پرندے جو آنکھ رکھتے ہیںسب سے پہلے اسیر ہوتے ہیں

پھول دامن میں چند رکھ لیجےراستے میں فقیر ہوتے ہیں

ہے خوشی بھی عجیب شے لیکنغم بڑے دل پذیر ہوتے ہیں

اے عدمؔ احتیاط لوگوں سےلوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں