5 اشعار

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا

Lahrā ke jhoom jhoom ke lā muskura ke lā

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا

«لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لا» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «زندگی ہے دوسروں کے حکم پر مرنے کا جشن (عبدالحمید عدم)» میں 23 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 40 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

لہرا کے جھوم جھوم کے لا مسکرا کے لاپھولوں کے رس میں چاند کی کرنیں ملا کے لا

کہتے ہیں عمر رفتہ کبھی لوٹتی نہیںجا مے کدے سے میری جوانی اٹھا کے لا

ساغر شکن ہے شیخ بلا نوش کی نظرشیشے کو زیر دامن رنگیں چھپا کے لا

کیوں جا رہی ہے روٹھ کے رنگینیِ بہارجا ایک مرتبہ اسے پھر ورغلا کے لا

دیکھی نہیں ہے تو نے کبھی زندگی کی لہراچھا تو جا عدمؔ کی صراحی اٹھا کے لا

— عبدالحمیدعدم

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں