8 اشعار

زلف برہم سنبھال کر چلئے

Zulf-e-barham sambhāl kar chaliye

زلف برہم سنبھال کر چلئے

«زلف برہم سنبھال کر چلئے» عبدالحمیدعدم کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

زلف برہم سنبھال کر چلئےراستہ دیکھ بھال کر چلئے

موسم گل ہے اپنی بانہوں کومیری بانہوں میں ڈال کر چلئے

مے کدے میں نہ بیٹھیے تاہمکچھ طبیعت بحال کر چلئے

کچھ نہ دیں گے تو کیا زیاں ہوگاحرج کیا ہے سوال کر چلئے

ہے اگر قتل عام کی نیتجسم کی چھب نکال کر چلئے

کسی نازک بدن سے ٹکرا کرکوئی کسب کمال کر چلئے

یا دوپٹہ نہ لیجئے سر پریا دوپٹہ سنبھال کر چلئے

یار دوزخ میں ہیں مقیم عدمؔخلد سے انتقال کر چلئے

— عبدالحمیدعدم