6 اشعار

آنکھوں پہ شب رقم بھی نہیں کر سکوں گا میں

Aankhon pe shab raqam bhi nahin kar sakoon ga main

آنکھوں پہ شب رقم بھی نہیں کر سکوں گا میںاے خواب تیرا غم بھی نہیں کر سکوں گا میں

اک مستقل سفر ہے تری آرزو مجھےاور خود کو تازہ دم بھی نہیں کر سکوں گا میں

اس کو خدا بنانے کی ضد پر اڑا ہے تواے دل جسے صنم بھی نہیں کر سکوں گا میں

سبزہ بھی چاہتی ہیں تصور کی خاک پروہ آنکھیں جن کو نم بھی نہیں کر سکوں گا میں

اک جان ہے جو نذر گزاری نہ جائے گیاک سر ہے جس کو خم بھی نہیں کر سکوں گا میں

تیری کمی میں روز اضافہ کرے گی عمراور اس کمی کو کم بھی نہیں کر سکوں گا میں

— ابھیشک شکلا