6 اشعار

فصیل جسم گرا دے مکان جاں سے نکل

Faseel-e-jism gira de makaan-e-jaan se nikal

فصیل جسم گرا دے مکان جاں سے نکلیہ انتشار زدہ شہر ہے یہاں سے نکل

تری تلاش میں پھرتے ہیں آفتاب کئیسو اب یہ فرض ہے تجھ پر کہ سائباں سے نکل

تمام شہر پہ اک خامشی مسلط ہےاب ایسا کر کہ کسی دن مری زباں سے نکل

مقام وصل تو ارض و سما کے بیچ میں ہےمیں اس زمین سے نکلوں تو آسماں سے نکل

میں اپنی ذات میں تاریکیاں سمیٹے ہوںتو اک چراغ جلا اور اب یہاں سے نکل

کہا تھا مجھ سے بھی اک دن ہوائے صحرا نےمری پناہ میں آ جا غبار جاں سے نکل

— ابھیشک شکلا