8 اشعار

اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے

Ab ikhtiyaar mein maujein na yeh rawaani hai

اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہےمیں بہہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے

میں اور میری طرح تو بھی اک حقیقت ہےپھر اس کے بعد جو بچتا ہے وہ کہانی ہے

ترے وجود میں کچھ ہے جو اس زمیں کا نہیںترے خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے

ذرا بھی دخل نہیں اس میں ان ہواؤں کاہمیں تو مصلحتاً اپنی خاک اڑانی ہے

یہ خواب گاہ یہ آنکھیں یہ میرا عشق قدیمہر ایک چیز مری ذات میں پرانی ہے

وہ ایک دن جو تجھے سوچنے میں گزرا تھاتمام عمر اسی دن کی ترجمانی ہے

نواح جاں میں بھٹکتی ہیں خوشبوئیں جس کیوہ ایک پھول کہ لگتا ہے رات رانی ہے

ارادتاً تو کہیں کچھ نہیں ہوا لیکنمیں جی رہا ہوں یہ سانسوں کی خوش گمانی ہے

— ابھیشک شکلا