8 اشعار

سفر کے بعد بھی ذوق سفر نہ رہ جائے

Safar ke baad bhi zauq-e-safar na reh jaaye

سفر کے بعد بھی ذوق سفر نہ رہ جائےخیال و خواب میں اب کے بھی گھر نہ رہ جائے

میں سوچتا ہوں بہت زندگی کے بارے میںیہ زندگی بھی مجھے سوچ کر نہ رہ جائے

بس ایک خوف میں ہوتی ہے ہر سحر میرینشان خواب کہیں آنکھ پر نہ رہ جائے

یہ بے حسی تو مری ضد تھی میرے اجزا سےکہ مجھ میں اپنے تعاقب کا ڈر نہ رہ جائے

ہوائے شام ترا رقص ناگزیر سہییہ میری خاک ترے جسم پر نہ رہ جائے

اسی کی شکل لیا چاہتی ہے خاک مریسو شہر جاں میں کوئی کوزہ گر نہ رہ جائے

گزر گیا ہو اگر قافلہ تو دیکھ آؤپس غبار کسی کی نظر نہ رہ جائے

میں ایک اور کھڑا ہوں حصار دنیا کےوہ جس کی ضد میں کھڑا ہوں ادھر نہ رہ جائے

— ابھیشک شکلا