6 اشعار

خلا کے جیسا کوئی درمیان بھی پڑتا

Khala ke jaisa koi darmiyaan bhi parta

خلا کے جیسا کوئی درمیان بھی پڑتاپھر اس سفر میں کہیں آسمان بھی پڑتا

میں چوٹ کر تو رہا ہوں ہوا کے ماتھے پرمزا تو جب تھا کہ کوئی نشان بھی پڑتا

عجیب خواہشیں اٹھتی ہیں اس خرابے میںگزر رہے ہیں تو اپنا مکان بھی پڑتا

ہمیں جہان کے پیچھے پڑے رہیں کب تکہمارے پیچھے کبھی یہ جہان بھی پڑتا

یہ اک کمی کہ جو اب زندگی سی لگتی ہےہماری دھوپ میں وہ سائبان بھی پڑتا

ہر ایک روز اسی زندگی کی تیاریسو چاہتے ہیں کبھی امتحان بھی پڑتا

— ابھیشک شکلا