9 اشعار

دے اٹھی لو جو ترے ساتھ گزاری ہوئی شام

De uthi lau jo tere saath guzari hui shaam

دے اٹھی لو جو ترے ساتھ گزاری ہوئی شامحجرۂ جاں کی ہر اک چیز پہ طاری ہوئی شام

عمر بھر دھوپ لپیٹے رہے اپنے تن پرہم سے پہنی نہ گئی اس کی اتاری ہوئی شام

پہلے تو مجھ سے مری ذات کا مطلب پوچھااور پھر اپنے ہی احساس سے عاری ہوئی شام

اے جنوں پوچھ اسی لمحۂ موجود سے پوچھلمس یہ کس کا اٹھایا ہے کہ بھاری ہوئی شام

دو ہی کردار نمایاں ہیں کہانی میں مریبے کراں دشت ہوا میں تو شکاری ہوئی شام

اس طرف دشت بدن میں کوئی سورج ڈوبااس طرف سینۂ افلاک سے جاری ہوئی شام

میں نسیں کاٹ کے سورج میں اتر ہی جاتاپر خیال آیا ترا ہجر کی ماری ہوئی شام

کیا فقط ہم سے سوالات کیے جائیں گےکیا فقط ہم سے مخاطب ہے یہ ہاری ہوئی شام

ہم نے ہر شے میں اترتے ہوئے دیکھا خود کویاد آئی جو ترے قرب پہ واری ہوئی شام

— ابھیشک شکلا