11 اشعار

پکار اسے کہ اب اس خامشی کا حل نکلے

Pukar use ke ab is khamoshi ka hal nikle

پکار اسے کہ اب اس خامشی کا حل نکلےجواب آئے تو ممکن ہے بات چل نکلے

زمانہ آگ تھا اور عشق لو لگی رسیہزار جل کے بھی کب اس بلا کے بل نکلے

میں اپنی خاک پہ اک عمر تک برستا رہاتھما تو دیکھا کہ کیچڑ میں کچھ کمل نکلے

میں جس میں خوش بھی تھا زندہ بھی تھا تمہارا بھی تھاکئی زمانے نچوڑوں تو ایک پل نکلے

کچھ ایک خواب وہاں بو رہوں گا سوچا ہےوہ نین اگر مرے نینوں سے بھی سجل نکلے

میں اپنے ہاتھوں کو روتا تھا ہر دعا کے بعدخدا کے ہاتھ تو مجھ سے زیادہ شل نکلے

دیار عشق میں سب کا گزر نہیں ممکنکئی جو پیروں پہ آئے تھے سر کے بل نکلے

بہار جذب ہے جس میں اسے بناتے ہوئےتمام رنگ مرے کینوس پہ ڈل نکلے

جمی ہوئی تھی مری آنکھ اک الاؤ کے گردکچھ ایک خواب تو یوں ہی پگھل پگھل نکلے

بدل کے رکھ ہی دیا مجھ کو عمر بھر کے لیےتری ہی طرح ترے غم بھی بے بدل نکلے

جو دل میں آئے تھے آہٹ اتار کر اپنیوہ دل سے نکلے تو پھر کتنا پر خلل نکلے

— ابھیشک شکلا