6 اشعار

یہ اور بات ترے دل میں گھر نہیں کروں گا

Yeh aur baat tere dil mein ghar nahin karoon ga

یہ اور بات ترے دل میں گھر نہیں کروں گاپر اس مقام سے آگے سفر نہیں کروں گا

دعائیں کیا دوں اسے زندگی کی اتنا ہےمیں زہر ہوں مگر اس پر اثر نہیں کروں گا

کسی سے جھوٹی محبت کسی سے سچا بیرمیں کر تو سکتا ہوں یہ سب مگر نہیں کروں گا

دوام بخش تو سکتا ہوں خامشی کو مگریہ کام میں کسی آواز پر نہیں کروں گا

کیا جو وقت پر اس کا مآل دیکھ چکاکوئی بھی کام میں اب وقت پر نہیں کروں گا

گزار دوں گا میں اپنے فراق میں خود کوخود اپنے ہونے کی خود کو خبر نہیں کروں گا

— ابھیشک شکلا