6 اشعار

ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہمیں جگا لاتے

Hum aise soye bhi kab the hamein jaga laate

ہم ایسے سوئے بھی کب تھے ہمیں جگا لاتےکچھ ایک خواب تو شب خون سے بچا لاتے

زیاں تو دونوں طرح سے ہے اپنی مٹی کاہم آب لاتے کہ اپنے لیے ہوا لاتے

پتہ جو ہوتا کہ نکلے گا چاند جیسا کچھہم اپنے ساتھ ستاروں کو بھی اٹھا لاتے

ہمیں یقین نہیں تھا خود اپنی رنگت پرہم اس زمیں کی ہتھیلی پہ رنگ کیا لاتے

بس اور کچھ بھی نہیں چاہتا تھا میں تم سےذرا سی چیز تھی دنیا کہیں چھپا لاتے

ہمارے عزم کی شدت اگر سمجھنی تھیتو اس سفر میں کوئی سخت مرحلہ لاتے

— ابھیشک شکلا