4 اشعار

پیکر نور میں ڈھلتا ہی چلا جاتا ہوں

Paikar noor mein dhalta hi chala jata hoon

پیکر نور میں ڈھلتا ہی چلا جاتا ہوںلو پکڑ لوں تو میں جلتا ہی چلا جاتا ہوں

ایک تو ہے کی میسر نہیں آنے والاایک میں ہوں کہ مچلتا ہی چلا جاتا ہوں

فیصلہ کن ہے اگر تو تو بس اب جلدی کرمیں جو ٹل جاؤں تو ٹلتا ہی چلا جاتا ہوں

نخل صحرا تھا مگر جب سے تو رویا مجھ پردیکھ میں پھولتا پھلتا ہی چلا جاتا ہوں

— ابھیشک شکلا