6 اشعار

لہر کا خواب ہو کے دیکھتے ہیں

Lehar ka khwab ho ke dekhte hain

لہر کا خواب ہو کے دیکھتے ہیںچل تہہ آب ہو کے دیکھتے ہیں

اس پہ اتنا یقین ہے ہم کواس کو بیتاب ہو کے دیکھتے ہیں

رات کو رات ہو کے جانا تھاخواب کو خواب ہو کے دیکھتے ہیں

اپنی ارزانیوں کے صدقے ہمخود کو نایاب ہو کے دیکھتے ہیں

ساحلوں کی نظر میں آنا ہےپھر تو غرقاب ہو کے دیکھتے ہیں

وہ جو پایاب کہہ رہا تھا ہمیںاس کو سیلاب ہو کے دیکھتے ہیں

— ابھیشک شکلا