6 اشعار

مٹی سے مشورہ نہ کر پانی کا بھی کہا نہ مان

Mitti se mashwara na kar paani ka bhi kaha na maan

مٹی سے مشورہ نہ کر پانی کا بھی کہا نہ ماناے آتش دروں مری پابندیٔ ہوا نہ مان

ہر اک لغت سے ماورا میں ہوں عجب محاورہمیری زباں میں پڑھ مجھے دنیا کا ترجمہ نہ مان

زندہ سماعتوں کا سوگ سنتے کہاں ہیں اب یہ لوگتو بھی صدائیں دیتا رہ مجھ کو بھی بے صدا نہ مان

یا تو وہ آب ہو بہت یا پھر سراب ہو بہتمٹی ہو جس کے جسم میں اس کو مرا خدا نہ مان

ٹوٹے ہیں مجھ پہ قہر بھی میں نے پیا ہے زہر بھیمیری زبان تلخ کا اتنا بھی اب برا نہ مان

بس ایک دید بھر کا ہے پھر تو یہ وقفۂ حیاتان کے قریب جا مگر آنکھوں کی التجا نہ مان

— ابھیشک شکلا