9 اشعار

مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن

Mat ghazab kar chhod de ghussa sajan

مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن

«مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجن» آبرو شاہ مبارک کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جب رو بہ رو ہو تیرے گفتار بھول جاوئے آبرو شاہ مبارک» میں 17 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 19 سیکنڈ ہے۔

مت غضب کر چھوڑ دے غصہ سجنآ جدائی خوب نئیں مل جا سجن

بے دلوں کی عذر خواہی مان لےجو کہ ہونا تھا سو ہو گزرا سجن

تم سوا ہم کوں کہیں جاگا نہیںپس لڑو مت ہم سیتی بے جا سجن

مر گئے غم سیں تمہارے ہم پیاکب تلک یہ خون غم کھانا سجن

جو لگے اب کاٹنے اخلاص کےکیا یہی تھا پیار کا ثمرا سجن

چھوڑ تم کوں اور کس سیں ہم ملیںکون ہے دنیا میں کوئی تم سا سجن

پاؤں پڑتا ہوں تمہارے رحم کوبات میری مان لے ہاہا سجن

تنگ رہنا کب تلک غنچے کی طرحپھول کے مانند ٹک کھل جا سجن

آبروؔ کوں کھو کے پچھتاؤ گے تمہم کو لازم ہے اتا کہنا سجن

— آبرو شاہ مبارک

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں