8 اشعار

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

Achanak dilruba mausam ka dil-aazar ho jaana

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا

«اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے عروج فیاض نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 3 سیکنڈ ہے۔

اچانک دل ربا موسم کا دل آزار ہو جانادعا آساں نہیں رہنا سخن دشوار ہو جانا

تمہیں دیکھیں نگاہیں اور تم کو ہی نہیں دیکھیںمحبت کے سبھی رشتوں کا یوں نادار ہو جانا

ابھی تو بے نیازی میں تخاطب کی سی خوشبو تھیہمیں اچھا لگا تھا درد کا دل دار ہو جانا

اگر سچ اتنا ظالم ہے تو ہم سے جھوٹ ہی بولوہمیں آتا ہے پت جھڑ کے دنوں گل بار ہو جانا

ابھی کچھ ان کہے الفاظ بھی ہیں کنج مژگاں میںاگر تم اس طرف آؤ صبا رفتار ہو جانا

ہوا تو ہم سفر ٹھہری سمجھ میں کس طرح آئےہواؤں کا ہماری راہ میں دیوار ہو جانا

ابھی تو سلسلہ اپنا زمیں سے آسماں تک تھاابھی دیکھا تھا راتوں کا سحر آثار ہو جانا

ہمارے شہر کے لوگوں کا اب احوال اتنا ہےکبھی اخبار پڑھ لینا کبھی اخبار ہو جانا

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں