7 اشعار

بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ ساز

Begangi-e-tarz-e-sitam bhi bahana saaz

بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ ساز

«بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ ساز» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے صباگل نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

بیگانگئ طرز ستم بھی بہانہ سازبیچارگیٔ کرب و الم بھی بہانہ ساز

کچھ بت بنا لیے ہیں چٹانیں تراش کردل بھی بہانہ ساز ہے غم بھی بہانہ ساز

عذر وفا کے ساتھ جلاتے رہے چراغکھلتا ہے اب کہ دیدۂ نم بھی بہانہ ساز

پابندیٔ رسوم وفا بھی بہانہ خوترک وفا و شیوۂ رم بھی بہانہ ساز

ہر لمحۂ حیات کا تنہا رہا وجوددلداریٔ نگاہ کرم بھی بہانہ ساز

کچھ دور ساتھ ساتھ تھے اتنا تو یاد ہےصحرائے غم میں نقش قدم بھی بہانہ ساز

سب سے بڑا فریب ہے خود زندگی اداؔاس حیلہ جو کے ساتھ ہیں ہم بھی بہانہ ساز

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں