5 اشعار

شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی

Shayad abhi hai raakh mein koi sharar bhi

شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی

«شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھی» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

شاید ابھی ہے راکھ میں کوئی شرار بھیکیوں ورنہ انتظار بھی ہے اضطرار بھی

دھیان آ گیا تھا مرگ دل نامراد کاملنے کو مل گیا ہے سکوں بھی قرار بھی

اب ڈھونڈنے چلے ہو مسافر کو دوستوحد نگاہ تک نہ رہا جب غبار بھی

ہر آستاں پہ ناصیہ فرسا ہیں آج وہجو کل نہ کر سکے تھے تیرا انتظار بھی

اک راہ رک گئی تو ٹھٹک کیوں گئیں اداؔآباد بستیاں ہیں پہاڑوں کے پار بھی

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں