8 اشعار

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی

Ek aaina roo ba roo hai abhi

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی

«ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھی» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے روح من نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 10 منٹ 55 سیکنڈ ہے۔

ایک آئینہ رو بہ رو ہے ابھیاس کی خوشبو سے گفتگو ہے ابھی

وہی خانہ بدوش امیدیںوہی بے صبر دل کی خو ہے ابھی

دل کے گنجان راستوں پہ کہیںتیری آواز اور تو ہے ابھی

زندگی کی طرح خراج طلبکوئی درماندہ آرزو ہے ابھی

بولتے ہیں دلوں کے سناٹےشور سا یہ جو چار سو ہے ابھی

زرد پتوں کو لے گئی ہے ہواشاخ میں شدت نمو ہے ابھی

ورنہ انسان مر گیا ہوتاکوئی بے نام جستجو ہے ابھی

ہم سفر بھی ہیں رہ گزر بھی ہےیہ مسافر ہی کو بہ کو ہے ابھی

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں