8 اشعار

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

Ujaala de charaagh-e-reh-guzar aasaan nahin hota

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا

«اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے نور مائیر نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

اجالا دے چراغ رہ گزر آساں نہیں ہوتاہمیشہ ہو ستارا ہم سفر آساں نہیں ہوتا

جو آنکھوں اوٹ ہے چہرہ اسی کو دیکھ کر جینایہ سوچا تھا کہ آساں ہے مگر آساں نہیں ہوتا

بڑے تاباں بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیںسحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا

اندھیری کاسنی راتیں یہیں سے ہو کے گزریں گیجلا رکھنا کوئی داغ جگر آساں نہیں ہوتا

کسی درد آشنا لمحے کے نقش پا سجا لینااکیلے گھر کو کہنا اپنا گھر آساں نہیں ہوتا

جو ٹپکے کاسۂ دل میں تو عالم ہی بدل جائےوہ اک آنسو مگر اے چشم تر آساں نہیں ہوتا

گماں تو کیا یقیں بھی وسوسوں کی زد میں ہوتا ہےسمجھنا سنگ در کو سنگ در آساں نہیں ہوتا

نہ بہلاوا نہ سمجھوتا جدائی سی جدائی ہےاداؔ سوچو تو خوشبو کا سفر آساں نہیں ہوتا

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں