8 اشعار

جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا

Jab dil ki rehguzar pe tera naqsh-e-pa na tha

جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا

«جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

جب دل کی رہ گزر پہ ترا نقش پا نہ تھاجینے کی آرزو تھی مگر حوصلہ نہ تھا

آگے حریم غم سے کوئی راستہ نہ تھااچھا ہوا کہ ساتھ کسی کو لیا نہ تھا

دامان چاک چاک گلوں کو بہانہ تھاورنہ نگاہ و دل میں کوئی فاصلہ نہ تھا

کچھ لوگ شرمسار خدا جانے کیوں ہوئےان سے تو روح عصر ہمیں کچھ گلہ نہ تھا

جلتے رہے خیال برستی رہی گھٹاہاں ناز آگہی تجھے کیا کچھ روا نہ تھا

سنسان دوپہر ہے بڑا جی اداس ہےکہنے کو ساتھ ساتھ ہمارے زمانہ تھا

ہر آرزو کا نام نہیں آبروئے جاںہر تشنہ لب جمال رخ کربلا نہ تھا

آندھی میں برگ گل کی زباں سے اداؔ ہواوہ راز جو کسی سے ابھی تک کہا نہ تھا

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں