8 اشعار

کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں

Kya jaaniye kis baat pe maghroor rahi hoon

کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں

«کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوں» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

کیا جانئے کس بات پہ مغرور رہی ہوںکہنے کو تو جس راہ چلایا ہے چلی ہوں

تم پاس نہیں ہو تو عجب حال ہے دل کایوں جیسے میں کچھ رکھ کے کہیں بھول گئی ہوں

پھولوں کے کٹوروں سے چھلک پڑتی ہے شبنمہنسنے کو ترے پیچھے بھی سو بار ہنسی ہوں

تیرے لیے تقدیر مری جنبش ابرواور میں ترا ایمائے نظر دیکھ رہی ہوں

صدیوں سے مرے پاؤں تلے جنت‌ انساںمیں جنت انساں کا پتہ پوچھ رہی ہوں

دل کو تو یہ کہتے ہیں کہ بس قطرۂ خوں ہےکس آس پہ اے سنگ سر راہ چلی ہوں

جس ہاتھ کی تقدیس نے گلشن کو سنوارااس ہاتھ کی تقدیر پہ آزردہ رہی ہوں

قسمت کے کھلونے ہیں اجالا کہ اندھیرادل شعلہ طلب تھا سو بہرحال جلی ہوں

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں