7 اشعار

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

Honton pe kabhi un ke mera naam hi aaye

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے

«ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئے» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 50 سیکنڈ ہے۔

ہونٹوں پہ کبھی ان کے مرا نام ہی آئےآئے تو سہی بر سر الزام ہی آئے

حیران ہیں لب بستہ ہیں دلگیر ہیں غنچےخوشبو کی زبانی ترا پیغام ہی آئے

لمحات مسرت ہیں تصور سے گریزاںیاد آئے ہیں جب بھی غم و آلام ہی آئے

تاروں سے سجا لیں گے رہ شہر تمنامقدور نہیں صبح چلو شام ہی آئے

کیا راہ بدلنے کا گلہ ہم سفروں سےجس رہ سے چلے تیرے در و بام ہی آئے

تھک ہار کے بیٹھے ہیں سر کوئے تمناکام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے

باقی نہ رہے ساکھ اداؔ دشت جنوں کیدل میں اگر اندیشۂ انجام ہی آئے

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں