11 اشعار

آخری ٹیس آزمانے کو

Aakhiri tes aazmane ko

آخری ٹیس آزمانے کو

«آخری ٹیس آزمانے کو» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 39 سیکنڈ ہے۔

آخری ٹیس آزمانے کوجی تو چاہا تھا مسکرانے کو

یاد اتنی بھی سخت جاں تو نہیںاک گھروندا رہا ہے ڈھانے کو

سنگریزوں میں ڈھل گئے آنسولوگ ہنستے رہے دکھانے کو

زخم نغمہ بھی لو تو دیتا ہےاک دیا رہ گیا جلانے کو

جلنے والے تو جل بجھے آخرکون دیتا خبر زمانے کو

کتنے مجبور ہو گئے ہوں گےان کہی بات منہ پہ لانے کو

کھل کے ہنسنا تو سب کو آتا ہےلوگ ترسے ہیں اک بہانے کو

ریزہ ریزہ بکھر گیا انساںدل کی ویرانیاں جتانے کو

حسرتوں کی پناہ گاہوں میںکیا ٹھکانے ہیں سر چھپانے کو

ہاتھ کانٹوں سے کر لیے زخمیپھول بالوں میں اک سجانے کو

آس کی بات ہو کہ سانس اداؔیہ کھلونے تھے ٹوٹ جانے کو

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں