10 اشعار

شکست ساز

Shikast-e-Saaz

شکست ساز

«شکست ساز» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے سجاد رضا نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 18 سیکنڈ ہے۔

میں نے گل ریز بہاروں کی تمنا کی تھیمجھے افسردہ نگاہوں کے سوا کچھ نہ ملا

چند سہمی ہوئی آہوں کے سوا کچھ نہ ملاجگمگاتے ہوئے تاروں کی تمنا کی تھی

میں نے موہوم امیدوں کی پناہیں ڈھونڈیںشدت یاس میں مبہم سا اشارہ نہ ملا

ڈگمگاتے ہوئے قدموں کو سہارا نہ ملاہائے کس دشت بلا خیز میں راہیں ڈھونڈیں

اب فسوں ساز بہاروں سے مجھے کیا مطلبآج ہی میری نگاہوں میں وہ منظر توبہ

میں نے دیکھے ہیں لپکتے ہوئے نشتر توبہخلد بر دوش نظاروں سے مجھے کیا مطلب

آسماں نور کے نغمات سے معمور سہیمیں نے گھٹتی ہوئی چیخوں کے سنے ہیں نوحے

ہائے وہ اشک جو پلکوں سے ڈھلک بھی نہ سکےزندگی حسن و جوانی سے ابھی چور سہی

کبھی ضو پاش ستاروں کی تمنا تھی مجھےآج ذروں کو بھی مقصود بنا رکھا ہے

آج کانٹوں کو کلیجے سے لگا رکھا ہےکبھی گل ریز بہاروں کی تمنا تھی مجھے

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں