7 اشعار

کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا

Kanta sa jo chubha tha wo lau de gaya hai kya

کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا

«کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیا» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 11 سیکنڈ ہے۔

کانٹا سا جو چبھا تھا وہ لو دے گیا ہے کیاگھلتا ہوا لہو میں یہ خورشید سا ہے کیا

پلکوں کے بیچ سارے اجالے سمٹ گئےسایہ نہ ساتھ دے یہ وہی مرحلہ ہے کیا

میں آندھیوں کے پاس تلاش صبا میں ہوںتم مجھ سے پوچھتے ہو مرا حوصلہ ہے کیا

ساگر ہوں اور موج کے ہر دائرے میں ہوںساحل پہ کوئی نقش قدم کھو گیا ہے کیا

سو سو طرح لکھا تو سہی حرف آرزواک حرف آرزو ہی مری انتہا ہے کیا

اک خواب دل پذیر گھنی چھاؤں کی طرحیہ بھی نہیں تو پھر مری زنجیر پا ہے کیا

کیا پھر کسی نے قرض مروت ادا کیاکیوں آنکھ بے سوال ہے دل پھر دکھا ہے کیا

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں