13 اشعار

وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے

Woh jo jalwon oat chhupa hai

وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے

«وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہے» ادا جعفری کا کلام ہے، جسے سید جینٹلمین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے ( ادا جعفری)» میں 12 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

وہ جو جلووں اوٹ چھپا ہےبے ہمتا ہے بے پروا ہے

دور بسا اور ساتھ رہا ہےاجلی دُھوپ ۔۔۔گھنا سایا ہے

یوں تو کس کو چاہ نہیں ہےاس ساگر کی تھاہ نہیں ہے

میں تو بس اتنا ہی جانوںجب بھی اس کا نام لیا ہے

اس نے بڑھ کر تھام لیا ہےگیت مرے ، آہنگ اس کا ہے

چیزی میری ، رنگ اس کا ہےان جانی من مانی گلیوں

میرے سنگ تو سنگ اس کا ہےایک دئیے کی لَو سے میں نے

جگ مگ کالی راتیں کی ہیںپچھلے پہر کے سناٹوں نے

آکر اس کی باتیں کی ہیںسورج کی پہلی کرنوں نے

آنکھ میں اس کی چھب دیکھی ہےدل میں اس کی چاپ سنی ہے

آس نر اس کے سارے بندھنآنکھ کا آنسو دھیان کا چندن

خوشیوں کے سب محل دو محلےزخموں کے سب گہنے گجرے

میں نے اس کو سونپ دیئے ہیں

— ادا جعفری

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں